بھٹکل 7؍جنوری (ایس او نیوز)ضلع انچارج اور وزیر مالگزاری آر وی دیشپانڈے نے اسسٹنٹ کمشنر بھٹکل اور نیشنل ہائی وے کے افسران کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے شمس الدین سرکل کی توسیع کے سلسلے میں نئی سفارشات کیں ہیں جس سے توقع ہے کہ یہاں پر واقع عمارتوں کا نقصان کچھ کم ہوجائے گا۔
وزیر دیشپانڈے نے بھٹکل میں شمس الدین سرکل کے علاقے میں ہائی وے کے ساتھ 300میٹر کا ریامپ (موٹرگاڑیوں کی رفتار قابو میں کرنے کا علاقہ ،جسے’ سلِپ روڈ ‘بھی کہا جاتا ہے) تعمیرکرنے کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ منگلورو سے گوا تک کہیں بھی 300میٹر کا ریامپ تعمیر نہیں کیا گیا ہے، تو پھر صرف بھٹکل میں ایسا منصوبہ کیوں بنایاگیا ہے ؟ دیش پانڈے نے نیشنل ہائی وے افسران کو ہدایت دی کہ وہ بھٹکل میں بھی 150 میٹر کا ہی ریامپ تعمیر کریں۔
دیشپانڈے صاحب نے کہا کہ شمس الدین سرکل بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے اوریہ ایک تاریخی علامت ہے۔ اس لئے یہاں پرتوسیعی منصوبے کے لئے بہت زیادہ جگہ تحویل میں لینے اورتوڑپھوڑ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ سرکل کے پاس 150میٹر کا ہی ریامپ بنایا جائے اور نیشنل ہائی وے 66 کی توسیع کو 40میٹر تک ہی محدود کرنے لائق جگہ کو تحویل میں لیا جائے۔انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر کو بتایا کہ ریاستی حکومت کی طرف سے تحریری ہدایت نامہ جاری کیا جاچکا ہے کہ شہر کے دیگر علاقوں میں صرف 30میٹر تک ہی روڈ کی توسیع ہو، اس سے زیادہ جگہ تحویل میں نہ لی جائے۔

شہری ترقیات کے وزیر جناب یوٹی قادر نے جب کہا کہ شمس الدین سرکل پر ریامپ کو 150میٹر تک محدود رکھنے پر عوام تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں تو نیشنل ہائی وے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر نے جواب دیا کہ وہاں پر جگہ کو تحویل میں لینا ہی بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔اگرعوام تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں تو پھر ریامپ کو 150میٹرتک محدود کرتے ہوئے صرف اس مقام پر 45میٹر کی توسیع کی جائے گی اور بقیہ شہری علاقے میں توسیع کو 30میٹرتک محدود رکھنا ہمیں منظور ہے۔ لہٰذا جیسے ہی عوام کی طرف سے جگہ تحویل میں دی جائے گی ، ہم تعمیری کام کا آغاز کریں گے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سلسلے میں جو وفد دہلی جاکر واپس لوٹا ہے ان سے بھی بات چیت کی جائے گی۔
خیال رہے کہ وزیرآر وی دیش پانڈے اور وزیر یوٹی عبدالقادر بھٹکل میں انجمن صد سالہ تقریب کی افتتاحی نشست کے بعد اخبارنویسوں کے سوالوں کا جواب دے رہے تھے۔